منگل یکم ستمبر ۲۰۲۶ کی لندن شام جب چل رہی تھی، امریکہ نے کہا وہ آبنائے ہرمز کے ساتھ ایرانی فوجی اہداف پر اسی گھڑی حملہ کر رہا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کا پیغام یہ تھا کہ اسلامی انقلاب کے پاسدارانِ انقلاب کے اڈوں پر ضربیں اس لیے لگ رہی ہیں کہ حال ہی میں سپاہ نے آبنائے میں تجارتی جہازرانی اور علاقے میں تعینات امریکی اہلکاروں کے خلاف کوششیں کیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال کی زبان میں لکھا: ریاستہائے متحدہ ”اس وقت“ آبنائے کے قریب ایرانی اہداف پر حملہ آور ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس نے اسی دوپہر اس کارروائی کو نیا ہدف نامہ لکھا — اتوار کو لارک جزیرے پر دو لانچروں والی ضرب کا دیر سے چھپا ہوا بیان نہیں۔ وہ اتوار والی کہانی اس نیوز روم کے پاس پہلے سے لائیو موجود ہے۔ انڈپینڈنٹ کی لائیو فائل، برٹش سمر ٹائم ساڑھے چھ بجے کے آس پاس تک، بندر عباس، قشم جزیرے، جاسک اور سیریک میں دھماکوں کی اطلاعات لے کر آئی۔ یہ چاروں نام ایران کے ہرمز والے کنارے پر ہیں۔ اس سے گھنٹوں پہلے، کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں، ایرانی صدر مسعود پیشین شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس میں کہہ چکے تھے: اگر واشنگٹن جون کے مفاہمت نامے کے وعدوں پر واپس آئے تو اسلامی جمہوریہ فوراً جوابی قدم اٹھائے گی۔ اسی شہر میں پاکستان کے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے اپنے ایرانی ہم منصب سے ایک جملہ دہرایا جو اسلام آباد کے لیے اس دن کی اصل خبر ہے — اس کاغذ پر مخلصانہ عمل درآمد ہی آگے کا راستہ ہے۔
منگل کی نئی لہر، اتوار کا جزیرہ نہیں
سینٹکام نے منگل کو زندہ آپریشن بیان کیا، پرانی فائل نہیں۔ کمانڈ نے ہدفوں کی فہرست، نقصان کا حساب، یا ایرانی جانی نقصان کا دعویٰ نہیں چھاپا۔ اے پی کی ترتیب صاف ہے: تقریباً ایک مہینے کی خاموشی، اتوار کو لارک پر ٹوٹی، منگل کو ایران کے اندر نئے اہداف۔ قارئین سے اتوار دوبارہ پڑھنے کو نہیں کہا جا رہا۔ آج کی کہانی نئی ضرب ہے، اور وہ سفارتکاری جو اسی کیلنڈر دن بشکیک میں چلی۔
اتوار جوڑ ہے، کاپی نہیں۔ واشنگٹن کے بیان کے مطابق امریکی افواج نے لارک پر دو لانچر اس لیے مارے کہ پاسداران آبنائے میں بحری سرنگیں ڈالنے کی تیاری میں تھے۔ ایران نے اردن میں امریکی استعمال کی تنصیبات پر بیلسٹک میزائل چلائے؛ امریکی اور اتحادی بیانات کہتے ہیں وہ روک لیے گئے۔ متحدہ عرب امارات نے کہا اس نے اپنے پانیوں کے اوپر ایرانی ڈرون روکا۔ ٹرمپ پیر کو فاکس نیوز سے کہہ چکے تھے امریکہ ”سخت“ جواب دے گا۔ سینٹکام کے منگل کے بیان میں وہی جواب ہے۔
سمندری پسِ منظر بھی پیر کا ہے۔ برطانوی فوج کے یو کے ایم ٹی او مرکز نے بتایا خلیج سے نکلتے ہوئے عمان کے مشرق میں ایک ٹینکر پر تین پراجیکٹائل لگے، اور اسی دن عمان کے ساحل کے قریب ٹینکر اور فوجی دستوں والا دوسرا واقعہ ہوا۔ منگل کی امریکی ضربوں کے اعلان تک کسی نے ان حملوں کی زمہ داری نہیں لی۔ سینٹکام نے جو جواز میز پر رکھا، اس کا تجارتی جہازرانی والا حصہ یہی ہے۔
آبنائے کے چار نام
انڈپینڈنٹ نے مقامی میڈیا سے چار جگہیں لکھیں: بندر عباس، ایران کا بڑا جنوبی بندرگاہ شہر؛ قشم، آبنائے کے منہ میں بڑا جزیرہ؛ جاسک، خلیج عمان کے ساتھ مشرق میں؛ سیریک، اسی ایرانی ساحل پر۔ جنگ نے اس گزرگاہ کو راشن بنا دیا ہے۔ سینٹکام نے مقصد پاسداران اہداف بتایا۔ ان چار ناموں کی تصدیق کمانڈ نے نہیں کی، اور یہ نیوز روم غیر تصدیق شدہ دھماکوں کو تباہ شدہ محلے کا نقشہ نہیں بنائے گا۔ برٹش سمر ٹائم ساڑھے چھ بجے کی ایماندار تصویر یہی ہے: واشنگٹن کہتا ہے ہرمز کے قریب گارڈ اڈے پر ضرب ہے؛ ایرانی مقامی رپورٹنگ ان چار مقامات پر دھماکے سننے کی بات کرتی ہے؛ مغربی وائر سروسز میں جانی نقصان اور تباہی کا آزاد حساب نہیں تھا۔
بندر عباس گمنام پن نہیں۔ ایران کی باقی ماندہ سمندری تجارت کا بڑا حصہ یہیں سے گزرتا ہے۔ قشم اسی تنگ گلی میں ہے جہاں لارک ہے۔ جاسک اور سیریک مشرقی راستے دیکھتے ہیں، جہاں آبنائے عرب سمندر کی طرف کھلتی ہے۔ ”آبنائے ہرمز کے قریب“ کی ضرب ان سب جگہوں پر ہو سکتی ہے بغیر ایک جزیرے کی دوسری ڈرافٹ بنے۔
بشکیک کا آفر، نئی بمباری سے پہلے
ایرانی صدر ایس سی او کے سربراہ اجلاس میں وہ جملہ کہہ گئے جو اس کہانی کے ساتھ سفر کرے گا۔ ایرانی سرکاری میڈیا، ارنا کے ذریعے، جسے اے پی اور الجزیرہ نے لیا: اگر امریکہ مفاہمت نامے کے وعدوں پر واپس آئے تو اسلامی جمہوریہ فوراً جوابی اقدام کرے گی۔ اے پی نے وقت نوٹ کیا۔ یہ بات ایران کے اندر تازہ امریکی ضرب سے پہلے ہوئی۔ یہ منگل کے بموں کا جواب نہیں تھا۔ بم شروع ہوئے تو پیشکش پہلے سے میز پر تھی۔
پیشین نے واشنگٹن کی پچھلی کوشش پر گھڑی بھی رکھی۔ اس ملک کے صدر کے دستخط شدہ کاغذ پر امریکی پابندی، ان کے بقول، دو ہفتے سے کم چلی، پھر ”اضافی مطالبات“ اور وعدہ توڑ شروع ہوا اور رکا نہیں۔ خارجہ وزارت کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا امریکہ نے مفاہمت نامے کے وعدے توڑے۔ یہ تہران کا کھاتہ ہے۔ واشنگٹن کا کھاتہ اسی دن وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے منہ سے نکلا: ختم شدہ فریم ورک اس لیے ناکام ہوا کہ ایران معاملے کے لیے تیار نہیں تھا۔ دونوں جملے رپورٹ کیے جا سکتے ہیں۔ فیصلہ نہیں۔
اجلاس حاشیہ نہیں۔ چین، روس، وسطی ایشیا، ایران، پاکستان اور بھارت ایس سی او کو وہ کمرہ بناتے ہیں جہاں مغربی جنگ کی پالیسی واشنگٹن کی کرسی کے بغیر چھنتی ہے۔ پیشین کا رخ اس کمرے کی طرف بھی تھا: ایران تب چلے گا جب امریکہ پہلے چلے۔ یہ ٹرمپ کی ترتیب کا الٹ ہے، جس میں دباؤ پہلے ہے اور بات اس وقت جب تہران، بیسنٹ کے لفظوں میں، ”معاہدہ چاہنے“ پر مجبور ہو۔
اسلام آباد کا کاغذ، اور ڈار کی بشکیک والی بات
دونوں دارالحکومت جو کاغذ نام لیتے ہیں وہ جون ۲۰۲۶ کا اسلام آباد مفاہمت نامہ ہے — چودہ نکاتی عبوری متن، پاکستان کی میزبانی، قطر کمرے میں، تقریباً ۱۷–۱۸ جون کو ٹرمپ اور پیشین کے دستخط۔ فائرنگ رکنی تھی، ساٹھ دن کی وسیع تر امن کی کھڑکی کھلنی تھی۔ ایران آبنائے سے سرنگیں صاف کرتا، اس مدت میں جہاز بغیر محصول کے گزارتا۔ امریکہ بحری ناکہ بندی ختم کرتا، پابندیاں اٹھاتا، ایرانی تیل کی چھوٹ دیتا، منجمد رقوم تک رسائی دیتا، اور تعمیرِ نو کا پیکج شروع کرتا جس کی شائع شدہ شکل میں کم از کم تین سو ارب ڈالر کا ذکر ہے۔ ”حتمی معاہدہ“ سلامتی کونسل کے پاس جانا تھا۔
کاغذ نہ چلا۔ دنوں میں دونوں دارالحکومت ایک دوسرے پر خلاف ورزی کا الزام لگا رہے تھے۔ ٹرمپ نے ایرانی علاقائی ضربوں کو ”احمقانہ خلاف ورزی“ کہا۔ ایران نے امریکی ضربوں کو آرٹیکل ایک کی خلاف ورزی قرار دیا۔ ساٹھ دن کی گھڑی اگست کے وسط میں بغیر تمدید کے مک گئی۔ ایرانی حکام بعد میں کہنے لگے تمدید کے لیے جنگ بندی باقی ہی نہیں رہی کیونکہ واشنگٹن کاغذ توڑ چکا۔ پھر تقریباً ایک مہینے کی نسبتًا خاموشی۔ اتوار نے وہ خاموشی توڑی۔ منگل نے اسے گاڑھا کیا۔
پاکستان کا تعلق تقریر کا نہیں۔ اسلام آباد نے بات چیت کی میزبانی کی۔ اس نے اپریل میں چھ ہفتے کی لڑائی کے بعد دو ہفتے کی جنگ بندی بھی کروائی۔ منگل کو بشکیک میں ایس سی او کے حاشیے پر ڈار ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے سامنے بیٹھے۔ دفتر خارجہ اسلام آباد نے کہا دونوں نے دوطرفہ تعلقات اور خطے پر بات کی، اور ڈار نے ایک عملی جملہ رکھا: مکالمہ اور سفارت خطے میں امن کے لیے ضروری ہیں، اور ”تنازع کے دونوں فریقوں کی جانب سے جون ۲۰۲۶ کے اسلام آباد مفاہمت نامے پر مخلصانہ عمل درآمد ہی آگے کا واحد راستہ ہے۔“ وزیر اعظم شہباز شریف اسی کرغز دورے پر ہیں۔ ڈار کی چین کے وانگ یی سے بھی ملاقات ہوئی۔ اس دن کی پاکستانی کہانی یہی ہے: ثالث اب بھی عمارت میں ہے، کاغذ دہرا رہا ہے، اور دستخط کرنے والے فائر کر رہے ہیں۔
دوسرے سہولت کار قطر نے دوحہ میں اتنا ہی سیدھا کہا۔ خارجہ وزارت کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا کشیدگی کی واپسی کسی کے فائدے میں نہیں، اور دوحہ شراکت داروں کے ساتھ پرامن راستے اور آبنائے کھولنے پر کام کر رہا ہے۔ پاکستان، قطر اور عمان کے اہلکار پچھلے ہفتے تہران میں سفارتی دباؤ لے کر گئے تھے؛ اختتامِ ہفتہ کا تبادلہ وہ دباؤ روک نہ سکا۔ عمان، جو ہرمز کے جنوبی کنارے پر ہے، ایران سے ٹریفک کے انتظام کے فریم ورک پر بات کر رہا ہے۔ خلیج کے دوسرے دارالحکومت آبنائے بغیر ایرانی شرائط کے کھلی دیکھنا چاہتے ہیں۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان منگل کو عمان کے سلطان ہیثم بن طارق سے ملے؛ سعودی پریس ایجنسی نے علاقائی سلامتی و استحکام لکھا، شائع شدہ بریفنگ میں ہرمز کا نام نہیں لیا۔
بینک، پائپ لائن، اور وہ آبنائے جسے بیسنٹ ریٹائر کرنا چاہتے ہیں
جب سینٹکام فائر کر رہا تھا اور پیشین سودے کی زبان بول رہے تھے، بیسنٹ شمالی کیرولائنا کے ایشول میں جی ۲۰ کے مالیاتی اجلاس میں ایسے بول رہے تھے جیسے گزرگاہ کو توانائی کے نظام سے نکالا جا سکتا ہے۔ ”دو سال میں آبنائے ہرمز بے قیمت پانی ہو گی۔“ ان کے اندازے میں تیل خشکی کی پائپ لائنوں پر چلے گا۔ اس تبدیلی پر وہ پہلے تقریباً ستر فیصد کا ہندسہ لگا چکے ہیں — جو توانائی کبھی ہرمز سے جاتی تھی۔ متحدہ عرب امارات مغرب–مشرق لائن بڑھا رہا ہے جو فجیرہ پر ختم ہوتی ہے، ۲۰۲۷ تک۔ سعودی عرب، عراق، شام، ترکی سے بھی خاکے بنے ہیں۔ بیسنٹ کی سیاسی بات انجینئرنگ سے تیز ہے: ایران ہرمز کو گلا گھونٹ بنانا چاہتا ہے؛ امریکہ کے لیے وہ گلا گھونٹ نہیں؛ بہت سے اور ملکوں کے لیے ہے۔
منگل کا خزانہ والا آدھا حصہ میزائلوں جتنا اہم ہے۔ بیسنٹ نے کہا واشنگٹن شاید اس ہفتے ایک بینک پابندی کا اعلان کرے، اگلے ہفتے دوسری — اتحادیوں کے ”بڑے تعاون“ کے بعد: یورپی یونین، یورپی مرکزی بینک، برطانیہ، امارات۔ اگست کے آخر میں چلایا گیا ”آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ“ اسی مہم کا نام ہے: بینکوں، جہاز رانوں، اور جو اب بھی تہران کو ڈالر نظام سے جوڑے ہوئے ہیں ان پر ہفتہ وار ثانوی دباؤ۔ انہوں نے دی نیشنل سے کہا ان کا کام یہ یقینی بنانا ہے کہ ایران معاہدہ چاہے، اور جون کا ختم شدہ فریم ورک اس لیے نہ چلا کہ تہران تیار نہیں تھا۔ چین کے مرکزی بینک کے گورنر پان گونگ شینگ سے نجی گفتگو کا ذکر بھی کیا، اور دو باتوں پر اتفاق کا دعویٰ: ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار نہ ہو، ہرمز میں جہازرانی آزاد ہو۔ جو ایرانی خام تیل اب بھی چلتا ہے، اس کا غالب حصہ چین لیتا ہے۔
تیل منگل دوپہر کی ضربوں کے تار پر آنے سے پہلے ہل چکا تھا۔ الجزیرہ کی صبح کی چھاپ نے نومبر برینٹ آٹھ بج کر پینتالیس منٹ گرین وچ پر ۹۲.۳۱ ڈالر فی بیرل لکھا، دن بھر تقریباً دو فیصد اوپر، پیر کے لارک، اردن اور ٹینکر جھٹکے کے بعد ڈھائی فیصد سے زیادہ اضافے کے تسلسل میں۔ یہ منگل رات کی بند قیمت نہیں، اور یہ نیوز روم اسے گھڑ کر نہیں دے گا۔ بس یہ کہنا کافی ہے کہ جب سینٹکام نے نئی ضربیں جاری بتائیں تو بازار پہلے سے ہرمز کا پریمیم دے رہا تھا۔ ایم ایس ٹی فنانشل کے ساؤل کیوونک نے الجزیرہ سے کہا تیل بازار ایک ”نہ جنگ نہ امن“ افق ہضم کر رہا ہے جو ۲۰۲۷ تک چل سکتا ہے، آبنائے سے صرف جزوی حجم۔ میرین ٹریفک نے ۳۰ اگست تک کے ہفتے میں ۱۰۷ گزر گنے، اس سے پہلے والے ہفتے ۱۲۱، جنگ سے پہلے روزانہ تقریباً ۱۳۰۔ بہت سے جہاز اب ”اندھیرے“ میں چلتے ہیں، اے آئی ایس بند۔
رات جو ابھی بند نہیں ہوئی
لندن کی منگل شام تک دونوں پٹریاں زندہ تھیں اور الٹی سمت کو جاتی تھیں۔ سینٹکام اور صدر نے کہا امریکی افواج ہرمز کے قریب پاسداران اہداف پر حملہ آور ہیں۔ ایرانی مقامی میڈیا نے ساحل کی چار جگہیں نامزد کیں جہاں دھماکے سنے گئے۔ پیشین کا آفر — پہلے واشنگٹن، پھر فوری جوابی اقدام — بشکیک سے ریکارڈ پر تھا، ان دھماکوں سے پہلے۔ ڈار نے عراقچی سے کہا اسلام آباد مفاہمت نامہ، دونوں طرف مخلصانہ، اب بھی واحد سڑک ہے۔ بیسنٹ مزید بینک ناموں اور ایسی مستقبل کی بات کر رہے تھے جس میں ہرمز مائنے نہ رکھے۔ قطر اور عمان اب بھی کھلی آبنائے کی زبان بول رہے تھے۔ اس پیکج کے داخلے تک اس میں سے جنگ بندی نہیں نکلی۔
آگے ٹیسٹ ہیں، پیشن گوئی نہیں۔ تہران منگل کی لہر کا جواب لارک والا دے — اردن، امارات، یا جہازرانی کے قریب — تو پتا چلے گا یہ اڑتالیس گھنٹے کی چوٹی ہے یا مہینے بھر کی خاموشی کا خاتمہ۔ واشنگٹن پیشین کے جملے کو دروازہ سمجھے یا شور، اس سے اسلام آباد کا کاغذ دوسری زندگی پائے گا یا نہیں۔ پاکستان کا ثالث تب چلتا ہے جب دونوں دارالحکومت اس دستاویز کو اب بھی چاہیں جس پر جون میں دستخط ہوئے اور اگست میں دفن ہو گئی۔ تیل کی قیمت آبنائے کو نشان لگاتی رہے گی چاہے بیسنٹ اسے ریٹائر کرنا چاہیں۔ یہ نیوز روم اتوار کے دو لانچر آج کی خبر بنا کر نہیں لکھے گا۔ منگل نیا ہدف نامہ ہے، زندہ سینٹکام آپریشن ہے، ایس سی او کی پیشکش ہے، اور پاکستانی یاددہانی ہے کہ میز پر جو کاغذ ہے اس پر اب بھی اسلام آباد کا نام ہے۔
سید عقیل — تحریر اور تصدیق۔

Comments(0
No comments yet. Be the first!